ایک دن اُس نے کہا کیا خوب ہے
ایک دن اُس نے کہا کیا خوب ہے
آپ کی ہر اک ادا کیا خوب ہے
ہے خداوند کی عنایت بالیقیں
برکتوں کا سلسلہ کیا خوب ہے
میرے سر پر چادرِ لطف و عطا
اے مرے مشکلشا کیا خوب ہے
روشنی سے مل رہی ہے زندگی
چار جانب یہ ضیاء کیا خوب ہے
ہے سلگتا درد سینے میں کہیں
دل لگانے کی سزا کیا خوب ہے
جو نکلتا ہے ترے گھر کی طرف
دلربا وہ راستہ کیا خوب ہے
شادماں سب دیکھ کر ہونے لگے
پھول آنگن میں کھِلا کیا خوب ہے
میری آنکھوں میں تو کاجؔل ہے مگر
تیری آنکھوں میں نشہ کیا خوب ہے
سمیرا سلیم کاجؔل
0 Comments
please don't enter any spam link in the comment box